کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے عید الفطر کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہر کے تفریحی مقامات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت ہنہ، اوڑک، کرخسہ اور شعبان کے علاقوں میں عوامی آمد و رفت ممنوع قرار دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس فیصلے نے شہریوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے، جو عید کے موقع پر سیر و تفریح کے لیے ان مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ تاحال حکومت کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ پابندی کب تک برقرار رہے گی۔ تاہم، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عید کے بعد صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لے کر کوئی نیا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
کوئٹہ کے شہریوں نے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ کچھ افراد نے سیکیورٹی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے اسے غیر متوقع اور مایوس کن قرار دیا۔ ایک مقامی رہائشی کا کہنا تھا، "عید کے موقع پر بچوں کے ساتھ تفریحی مقامات پر جانے کا ارادہ تھا، لیکن اچانک اس فیصلے نے ساری خوشی ماند کر دی۔” تفریحی مقامات کی بندش کے بعد شہریوں کے پاس محدود آپشنز باقی رہ گئے ہیں۔ کچھ افراد نے پارکوں اور دیگر عوامی مقامات کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے کسی متبادل تفریحی سرگرمی کا اعلان نہیں کیا گیا۔