کراچی کے علاقے کورنگی کریک میں ایک گڑھے میں لگنے والی شدید آگ کی وجہ سامنے آگئی ہے۔ تیل و گیس ماہرین کا کہنا ہے کہ کورنگی کریک میں یہ آگ زیرِ زمین موجود گیس کے ذخیرے میں لگی ہوگی، جو ممکنہ طور پر کم گہرائی میں موجود ایک چھوٹا گیس ذخیرہ ہے۔
سی ای او کنسٹرکشن کمپنی نے بتایا کہ انہوں نے 1200 فٹ گہرائی تک کھدائی کی تھی اور مٹی کی ٹیسٹنگ بھی کروائی تھی، لیکن گیس موجودگی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی تھی کیونکہ کھدائی صرف بورنگ کے پانی کے لیے کی گئی تھی۔
دوسری جانب، چیف فائر افسر محمد ہمایوں کا کہنا ہے کہ رات گئے حادثے کے وقت فائربریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچی گئیں اور پانی، مٹی اور ریت کا استعمال کر کے آگ کو بجھانے کی کوشش کی گئی۔ ہمایوں نے مزید بتایا کہ حادثے کی جگہ سے پانی، ریت اور دیگر نمونے جمع کیے جا رہے ہیں جن کے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد معلوم ہوگا کہ کس قسم کی گیس موجود ہے، جس میں تقریباً 2 سے 3 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
چیف فائر افسر نے کہا کہ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ آیا یہ واقعہ کسی گیس لائن کا نتیجہ ہے یا ایک گیس پاکٹ کی موجودگی کا۔ حکام مختلف اداروں کے ساتھ مل کر آگ بجھانے کی مؤثر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، کیونکہ کھدائی کے دوران اچانک آگ لگنے کی صورتحال انتہائی تشویشناک رہی۔